کے ساتھ جواب دینا احادیث میں مذکورہے ، اس کے علاوہ ایک ولیُّ اللّٰہ کے فعل سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ چُنانچِہ کروڑوں حَنبلیوں کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مسئلہ (مَس۔ اَلہ) پوچھنے کے لیے انہیں جب کوئی اپنی طرف متوجّہ کرتا تو اکثر ’’لبَّیک‘‘ فرماتے۔ (مناقب الامام احمد بن حنبل للجوزی ص۲۹۸ ) مسنون دعاؤں کی مشہور کتاب ’’ حِصْنِ حَصِیْن ‘‘ میں ہے : جب کوئی شخص تجھے بلائے تو جواب میں کہے : لبَّیک۔ (حصنِ حصین ص۱۰۴)
خاموشی کی برکت کی تین مَدَنی بہاریں
{1} خاموشی کی بَرَکت سے دیدارِمصطَفٰے
ایک اسلامی بہن کی تحریر کا لُبِّ لُباب ہے: دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہکی طرف سے جاری کردہ خاموشی کی اَھَمِّیَّت پر مبنی سنّتوں بھرے بیان کی کیسٹ سُن کر میں نے زَبان کے قفلِ مدینہ کی ترکیب شروع کی یعنی خاموشی کی عادت ڈالنے کا سلسلہ کیا ، تین ہی د ن میں مجھے اندازہ ہوگیا کہ پہلے میں کس قَدَر فالتو باتیں کیاکرتی تھی! اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ خاموشی کی بَرَکت سے مجھے اچّھے اچّھے خواب نظر آنے لگے ، فُضُول گوئی سے بچنے کی کوشش کے تیسرے دن میں نے مکتبۃُ المدینہ کی جاری کردہ سنّتوں بھرے بیان کی ایک مزید آڈیوکیسٹ بنام ’’اِطاعت کسے کہتے ہیں ‘‘ سُنی۔ رات جب سوئی تو اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کیسٹ میں بیان کردہ ایک واقِعہ مجھے خواب میں دکھائی دینے لگا! ’’جنگ کا نقشہ تھا، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دشمن کی جاسوسی کے لییحضرتِ سیِّدُنا حذُیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو روانہ کرتے ہیں ، وہ کُفّار کے خَیموں کے پاس پہنچتے ہیں تو انہیں کُفّار کے سردار حضرت ابوسُفیان (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں ، موقع غنیمت جانتے ہوئے سیِّدُناحُذَیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کما ن پر تیر چڑھالیتے ہیں کہ انہیں سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم یاد آتا ہے (جس کا مفہوم ہے: کوئی چھیڑ چھاڑ مت کرنا) چُنانچِہ اپنے مَدَنی امیر کی اطاعت کرتے ہوئے تیر چلانے سے باز رہتے ہیں ، پھر حاضِر ہوکر تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ بابَرَکت میں کارکردگی پیش کرتے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے اس خواب میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اوردوصَحابۂ کِرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خوب واضِح طور پر زِیارت نصیب ہوئی ، باقی سب مناظِر دُھندلے نظر آرہے تھے۔‘‘ مزید لکھا ہے: اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ! صرف تین دن کی فُضُول گوئی سے بچنے کی کوشِش سے مجھ پر آقائے دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بَہُت بڑا کرم ہوگیا ، بس میری تمنّاہے کہ کبھی بھی میری زَبان سے کوئی فالتو لفظ نہ نکلے۔ آپ دعا کیجئے کہ میں اپنی اس کوشِش میں کامیاب ہوجاؤں۔
خصوصاً اسلامی بہنوں کواس خوش نصیب اسلامی بہن پر کافی رشک آرہا ہوگا۔ کسی اسلامی بہن کا خاموشی اختیار کرناواقِعی بَہُت بڑی بات ہے کیوں کہ مَردوں کے مقابلے میں عُمُوماً عورَتیں زیادہ بولتی ہیں ۔
اللہ زَباں کا ہو عطا قفلِ مدینہ
میں کاش ! زباں پر لوں لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{2} عَلاقے میں مَدَنی ماحول بنانے میں خاموشی کاکردار
ایک اسلامی بھائی نے سگِ مدینہعُفِیَ عَنْہُ کو جو مکتوب بھیجا اُس کا لُبِّ لُباب ہے کہ ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کے سنّتوں بھرے اجتِماع میں خاموشی کے مُتَعَلِّق سنّتوں بھرا بیان سننے سے پہلے میں مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے کے باوُجُود میں بَہُت فُضُول گو تھا ، دُرُودشریف کی کوئی خاص کثرت نہ تھی۔ جب سے چُپ رہنے کی کوشِش شُروع کی ہے، روزانہ ایک ہزار دُرُودشریف پڑھنا نصیب ہورہاہے ۔ ورنہ میرا انمول وَقت اِدھر اُدھر