خاموش شہزادہ

        حُضُور تاجدارِ مدینہ،   قرارِ قلب و سینہ،   صاحِبِ مُعطّر پسینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے:  ’’ اُس شخص پر جنَّت حرام ہے جو فُحش گوئی  (یعنی بے حیائی کی بات)  سے کام لیتا ہے۔  ‘‘   (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۲۰۴حدیث۳۲۵)

 سات مَدَنی پھولوں کا’’  فاروقی گلدستہ‘‘

           امیرُالْمُؤمِنِین،  امامُ العادِلین،  مُتَمِّمُ الْاَربَعِینحضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ٭فُضُول گوئی سے بچنے والے کو حکمت و دانائی عطا کی جاتی ہے ٭ فُضُول نگاہی یعنی بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دیکھنے سے بچنے والے کو خُشوعِ قلب   ( سُکونِ قلبی) ٭ فُضُول طَعام ( یعنی ڈٹ کر کھانا یا بِغیر کسی بھوک کے صِرْف لذّت کے لئے طرح طرح کی چیزیں کھانا)  چھوڑنے والے کو عِبادت میں لذّت دی جاتی ہی٭ فضول ہنسنے سے بچنے والے کو رُعب و دبدبہ عنایت ہوتا ہے ٭مذاق مسخری سے بچنے والے کو نورِ ایمان نصیب ہوتا ہی٭ دُنیا کیمَحَبَّت سے بچنے والے کو آخِرت کی مَحَبَّت دی جاتی ہی٭ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے سے بچنے والے کو اپنے عیبوں کی اصلاح کی توفیق ملتی ہے۔    ( ماخوذاَز المنبہات ص۸۹)  

اے کاش !  ایسا ہو جائے.....

                          ہراسلامی بھائی اور اسلامی بہن ہر مَدَنی ماہ کے پہلے پیر شریف کو اِس رسالے کے مُطالَعے کا معمول بنا لے،   اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے قَلْب میں حیرت انگیز تبدیلی محسوس فرمائیں گے۔  مَدَنی اِنعام نمبر45اور46کے مطابِق عمل زَبان کی حفاظت کا بہترین ذَرِیعہ ہے لہٰذا فضول گوئی سے بچنے کی عادت ڈالنے کیلئے ضَروری گفتگو بھی کم لفظوں میں نمٹائے نیز کچھ نہ کچھ بات اشارے سے اور لکھ کر کرنے کی کوشِش کیجئے اور فضول بات منہ سے نکل جانے کی صورت میں فوراً ایک یا تین بار دُرُود شریف پڑھنے کا معمول بنا لیجئے۔  

ایک صَحابی کے جنَّتی ہونے کا راز

          ہمارے میٹھے میٹھے آقا،   مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عطاسے لوگوں کو دیکھ کر ہی پہچان لیتے تھے کہ یہ جنَّتی ہے یا جہنَّمی بلکہ آنے والے کی پہلے ہی سے خبر ہوجاتی کہ وہ جنَّتی ہے یا دَوزَخی،  چُنانچِہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب ،   دانائے غُیُوب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:  ’’  جو شخص سب سے پہلے اس دروازے سے داخِل ہو گاوہ  جنَّتی  ہو گا۔ ‘‘ اِتنے میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دروازے سے داخِل ہوئے،   لوگوں نے ان کو مبارَکباد دیتے ہوئے دریافت کیا کہ آخِر کس عمل کے سبب آپ کو یہ سعادت ملی ؟  سیِّدُنا  عبداللّٰہ بن سلام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  میرا عمل بَہُت ہی تھوڑا ہے اور جس کی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے امّید رکھتا ہوں وہ میرے سینے کی سلامتی اور بے مقصد باتوں کو چھوڑنا ہے ۔  (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیاج۷ص۸۶رقم ۱۱۱)  

          اس حدیثِ پاک کے الفاظ  ’’ سَلامَۃُ الصَّدْر ‘‘ یعنی  ’’ سینے کی سلامَتی‘‘  سے مُراد دل کا لَغْوِیّات  (یعنی بے ہودہ )  اورحَسَد وغیرہ اَمراضِ باطِنِیَّہ سے پاک ہونا اور دل میں ایمان کا مضبوطُ و مُسَتحکَم ہونا ہے ۔

رفتار کا گُفتار کا کردار کا  دے دے

          ہر عُضو کا دے مجھ کو خدا  قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فُضُول باتوں کی مِثالیں

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ’’  فُضُول باتیں ‘‘   اگر چِہ گناہ نہیں تاہم اِس میں کوئی بھلائی بھی نہیں ۔    سُبْحٰنَ اللہ ! حضرتِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زَبانِ رسالت سے دُنیا ہی میں جنَّت کی بِشارت  عنایت ہوگئی!  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ میں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ کبھی  فُضُول باتوں میں نہیں پڑتے تھے ،    جس کام سے واسِطہ نہ ہوتا اُس کے بارے میں پوچھتے تک نہیں تھے،   لیکن افسوس ! ہمارا جن مُعامَلات سے دُور کا

Index