خاموش شہزادہ

اور بے فائدہ گفتگوکیلئے زَحْمت دینے کے بجائے اگرلَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُولُ اللّٰہ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کہہ لیا جائے یا دُرُود شریف پڑھ لیا جائے تو یقینا اِس میں فائدہ ہی فائدہ ہے اور یہ اپنے انمول وقت کا بہترین استِعمال ہے،   ایسے عظیم فائدے کا ضائِع ہونا بھی لازِماً نقصان ہی ہے ۔  

ذِکر و دُرُود ہر گھڑی وِردِ زَباں رہے

میری فُضُول گوئی کی عادت نکال دو  (وسائلِ بخشِش ص۱۶۴)

چُپ رہنے کا طریقہ

          پیارے اسلامی بھائیو! فُضُول گوئی گُناہ نہ سہی مگر اِس میں محرومیاں اور کافی نقصانات موجود ہیں لہٰذا اِس سے بچنا بے حد ضَروری ہے ۔  کاش!  کاش!  اے کاش!  خاموشی کی عادت ڈالنے کیلئے زَبان پر’’  قفلِ مدینہ ‘‘ لگانے کی سعادت مل جاتی۔  حکایت: حضرتِ سیِّدُنا  مُوَرِّق عِجْلِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ ایک ایسا مُعامَلہ جسے میں 20 سال تک حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن پانہ سکامگر پھر بھی اُس کی طلب نہیں چھوڑی۔ پوچھا گیا : وہ اہم چیز کیا ہے؟ فرمایا: خاموش رَہنا۔  (اَلزُّہْد  لِلامام اَحمد ص۳۱۰رقم۱۷۶۲) خاموشی کے طلبگار کو چا ہئے کہ زَبان سے کرنے کے بجائے روزانہ تھوڑی بَہُت باتیں لکھ کر یا اشارے سے بھی کر لیا کرے  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِس طرح خاموشی کی عادت شُروع ہوجا ئے گی۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ’’دعوتِ اسلامی‘‘  کی طرف سے نیک بننے کے عظیم نسخے  ’’  مَدَنی انعامات‘‘   کا ایک مَدَنی اِنعام یہ بھی ہے:  کیا آج آپ نے زَبان کا قفلِ مدینہ لگاتے ہوئے فُضُول گوئی سے بچنے کی عادت ڈالنے کے لیے کچھ نہ کچھ اشارے سے اور کم ازکم چار بار لکھ کر گفتگو کی؟  خاموشی کی عادت بنانے کی کوشش کے دَوران ایسا بھی ہوسکتاہے کہ فُضُول گوئی سے بچنے کی کوشش میں چند روز کامیابی ملی مگر پھربولنے کی عادت حسب ِ معمول ہو جائے ،   اگر ایسا ہو بھی توہمت مت ہاریئے،    بار بارکوشش کیجئے جذبہ سچّا ہوا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کامیابی ضَرور حاصل ہو گی۔ خاموشی کی عادت بنانے کی مشق کرنے کے دوران اپنا چِہرہ مُسکراتا رکھنا مناسب ہے تا کہ کسی کو یہ نہ لگے کہ آپ اُس سے ناراض ہیں جبھی منہ  ’’  پُھلا یا‘‘ ہوا ہے۔  خاموشی کی کوشش کے دنوں میں غصّہ بڑھ سکتا ہے لہٰذا اگر کوئی آپ کا اشارہ نہ سمجھ پائے تو ہرگز اُس پر غصّے کا اظہار نہ کیجئے کہ کہیں بے جا دل آزاری وغیرہ کا گناہ نہ کر بیٹھیں ۔   اشارے وغیرہ سے گفتگو صرف انہیں کے ساتھ مناسب رہتی ہے جن کے ساتھ آپ کی ذِہنی ہم آہنگی ہو،    اجنبی یا نامانوس آدمی ہو سکتا ہے کہ اشارے وغیرہ کی گفتگو کے سبب آپ سے  ’’ ناراض‘‘  ہو جائے،    لہٰذا اُس کے ساتھ ضَرورتاً زَبان سے بات چیت کر لیجئے۔   بلکہ کئی صورَتوں میں زَبان سے بولنا واجِب بھی ہو جاتا ہے ۔   مَثَلاًملاقاتی کے سلام کا جواب وغیرہ ۔  کسی سے ملاقات کے وقت سلام بھی اِشارے سے نہیں زَبان سے کرنا سنَّتہے۔  یوں ہی دروازے پر کوئی دستک دے اور اندر سے پوچھا جائے کون ہے؟ تو جواب میں باہر والا ،    ’’ مدینہ!  کھولو!‘‘ ’’ میں ہوں ‘‘  وغیرہ نہ کہے بلکہ سنَّت یہ ہے کہ اپنا نام بتائے۔

اچّھے انداز پر پکارکر ثواب کمایئے

           ہونٹوں سے  ’’شِش شی‘‘   کی آواز نکال کر کسی کو بُلانا یا مُتَوَجِّہکرنا اچّھا انداز نہیں ،    نام معلوم ہونے کی صورت میں ’’ مدینہ! ‘‘  کہہ کر بھی نہیں بلکہ نام یاکنیت  (کُن۔  یَت)   سے پکارے کہ  سنَّت ہے،   خصوصاً استنجاخانوں اور گندی جگہوں پر  ’’ مدینہ‘‘   کہہ کر پکارنے سے بچنے کی سخت ضرورت ہے۔   اگر نام نہ معلوم ہو تواُس مقام کے عُرف کے مطابِق مہذَّب انداز میں پکارا جائے،   مَثَلاً ہمارے مُعاشرے میں عُمُوماً نوجوان کوبھائی جان!  بھائی صاحِب !  بڑے بھائی !  اور عمر رسیدہ کو:  چچا جان!  بزرگو!  وغیرہ کہہ کر پکارتے ہیں ۔  بَہَرحال جب بھی کسی کو پکارا جائے تو مؤمن کاد ل خوش کرنے کے ثواب کی نیّت کے ساتھ اچّھے میں اچّھا انداز ہواورنام بھی پورا لیا جائے نیز موقع کی مناسبت سے آخِر میں لفظ’’  بھائی‘‘   یا ’’  صاحِب‘‘  وغیرہ کا بھی اضافہ ہو،    حج کیا ہے تو  ’’ حاجی‘‘   کا لفظ بھی شامل کر لیا جائے۔ جس کو پکارا گیا وہ   ’’ لَبَّیک‘‘   (یعنی میں حاضر ہوں) کہے۔  اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوت ِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں اکثر کسی کی پکار پر جواباً  ’’لَبَّیک‘‘  کہا جاتا ہے جو کہ سننے میں بہت بھلا معلوم ہوتا ہے اِ س سے مسلمان کے دل میں خوشی داخل ہو سکتی ہے ۔   نیز صحابۂ کرام عَلَيهِمُ الّرِضْوَان کا  شہنشاہِخیرُالْاَنام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے یاد فرمانے  (یعنی بلانے )  پر ’’ لَبَّیک‘‘   

Index