خاموش شہزادہ

جاتا ہے چُنانچِہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی کے فرمانِ والا شان کا خلاصہ ہے: گفتگو کی چارقِسمیں ہیں :   {1} مکمّل نقصان دِہ بات {2}  مکمَّل فائدے مند  بات  {3} ایسی بات جو نقصان دِہ بھی ہو اور فائدے مند بھی۔   اور  {4} ایسی بات جس میں نہ فائدہ ہو نہ نقصان۔ پس پہلی قِسم کی بات جو کہ مکمّل نقصان دِہ ہے اُس سے ہمیشہ پرہیز ضَروری ہے۔  اور اسی طرح تیسری قِسم والی بات کہ جس میں نقصان اور فائدہ دونوں ہیں ،    اس سے بھی بچنا لازِم ہے ۔   اور جو چوتھی قِسم ہے وہ فُضُولیات میں شامل ہے کہ اُس کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کوئی نقصان لہٰذا ایسی بات میں وَقت ضائِع کرنا بھی ایک طرح کا نقصان ہی ہے ۔   ا س کے بعد صرف دوسری ہی قِسم کی بات رَہ جاتی ہے یعنی باتوں میں سے تین چوتھائی  (یعنی75%) تو قابلِ استعمال نہیں اور صرف ایک چوتھائی (یعنی25%)  بات جو کہ فائدہ مند ہے بس وُہی قابلِ استِعمال ہے مگر اِس قابلِ استِعمال بات کے اندر باریک قسم کی رِیا کاری،    بناوَٹ ،    غیبت ،   جھوٹے مبالغے  ’’  میں میں کرنے کی آفت ‘‘  یعنی اپنی فضیلت و پاکیزگی بیان کر بیٹھنے وغیرہ وغیرہ اندیشے ہیں نیز فائدہ مندگفتگو کرتے کرتے فُضُول باتوں میں جا پڑنے پھر اس کے ذَرِیعے مزید آگے بڑھتے ہوئے اِس میں گناہ کا ارتِکاب ہو جانے وغیرہ وغیرہ خدشات شامل ہیں اوریہ شُمُولِیَّت ایسی باریک ہے جس کاعِلْم نہیں ہوتا،    لہٰذا اس قابلِ استِعمال بات کے ذَرِیعے بھی ا نسان خطرات میں گِھرا رہتا ہے۔   (مُلَخَّص ازاِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۱۳۸)  

چُپ رہنے میں سو سکھ ہیں تو یہ تجرِبہ کر لے

اے بھائی!  زَباں پر تو لگا قُفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

بے وُقُوف بے سوچے بولتاہے      

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عقل مند پہلے بات کو تولتا ہے پھر منہ سے بولتا ہے اوربَیوُقُوف جو کچھ جی میں آئے بولتا چلا جاتاہے،    چاہے اِس کی وجہ سے کتنا ہی ذلیل کیوں نہ ہونا پڑے ۔   چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :  لوگوں میں مشہور تھا کہ عقلمند کی زَبان اُس کے دل کے پیچھے ہوتی ہے وہ بات کرنے سے پہلے اپنے دل سے رُجوع کرتاہے یعنی غور کرتا ہے کہ کہوں یا نہ کہوں ؟ اگرمُفید ہوتی ہے تو کہتا ہے ورنہ چُپ رہتاہے ۔   جبکہ بیوقوف کی زَبان اُس کے دل کے آگے ہوتی ہے کہ اِدھریعنی دل کی طرف رُجوع کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی بس جو کچھ زَبان پر آیا کہہ دیتاہے۔      (مُلَخَّص اَزتَنبِیہُ الْغافِلین ص۱۱۵)  

 بولنے سے پہلے تولنے کا طریقہ

          پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے ! ہمارے میٹھے میٹھے آقا ،    مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی بھی اپنی زَبانِ حقِّ تَرجُمان سے کوئی فالتو لفظ ادا نہیں فرمایا اور نہ ہی کبھی قَہقَہہ لگایا۔ کاش ! یہ خاموشی اورزور سے نہ ہنسنے کی سنتیں  بھی عام ہو جائیں۔   اے کاش! ہم ‘’ بولنے’‘  سے پہلے ‘’  تولنے’‘  کے عادی بن جائیں ۔   تولنے کا طریقہ یہ ہے کہ اِس سے پہلے کہ الفاظ زَبان سے اداہوں اپنے دل سے سُوال کرلیا جائے کہ اِس بولنے کا مقصد کیاہے ؟  یا میں کسی کو نیکی کی دعوت دے رہاہوں ؟  کیا یہ بات جو میں بولنا چاہتاہوں اس میں میرایا کسی دوسرے کا بھلا ہے ؟  میری بات کہیں ایسے مُبالَغے سے پُرتو نہیں جو مجھے جھوٹ کے گناہ میں مبتَلا کردے ۔ جھوٹے مُبالَغے کی مثال دیتے ہوئیصدرُ الشَّریعہ،    بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں :    ’’ اگر ایک مرتبہ آیا اور یہ کہہ دیاکہ ہزار مرتبہ آیا تو جھوٹا ہے۔  ‘‘   (بہارِ شریعت حصّہ ۱۶ ص ۱۶۱،   ۱۶۲)  یہ بھی سوچے کہ میں کہیں کسی کی جھوٹی تعریف تو نہیں کررہا ؟  کسی کی غیبت تو نہیں ہورہی ؟  میری اس بات سے کسی کا دل تو نہیں دُکھ جائیگا ؟  بول کر نَدامت کے سبب رُجوع کرنے یاSORRYکہنے کی نوبت تو نہیں آئے گی ؟   تھوک کر چاٹنے یعنی جوش میں کہی ہوئی بات واپَس تو نہیں لینی پڑیگی ؟  کہیں اپنا یا کسی دوسرے کا راز فاش تو نہیں کر بیٹھوں گا؟  بولنے سے پہلے بات کو تولنے میں اگر یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس بات میں نہ نفع ہے نہ نقصان اور نہ ہی ثواب ہے نہ گناہ،    تب بھی یہ بات بول دینے میں ایک طرح کا نقصان ہی ہے کیونکہ زَبان کو اِس طرح کی فضول

Index