خاموش شہزادہ

کی فُضول بَحثوں میں برباد ہو جاتا تھا۔ بارہ دن میں پڑھے ہوئے 12 ہزار دُرُود شریف کا ثواب آپ کوتُحفتاً پیش (یعنی ایصالِ ثواب)  کرتاہوں ۔   مزید عرض ہے کہ میرے باتُونی مزاج کے باعث ہونے والی کَجْ بَحثی  (یعنی الٹی سیدھی باتوں ) کی نُحُوست سے ہمارے ذَیلی حلقے میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کو بھی نقصان پہنچ جاتاتھا۔  پچھلے دنوں ہمارے حلقے میں آپس کا اختِلاف نمٹانے کے لیے مَدَنی مشورہ ہوا،   حیرت بالائے حیرت کہ میری خاموشی کے سبب اَلْحَمْدُلِلّٰہ سارا جھگڑا بَآسانی خَتْم ہو گیا۔   ہمارے      ’’ نگرانِ پاک‘‘ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے بے تکلُّفی میں کچھ اس طرح فرمایا :  ’’ مجھے بَہُت ڈرلگ رہا تھا کہ شاید آپ بحث شُروع کریں گے اور بات کا بتنگڑ بن جائے گا لیکن آپ کے خاموشی اپنانے کی نعمت نے ہمیں راحت بخشی۔  ‘‘ دراصل بات یہ ہے کہ اِس سے قَبل مجھ نالائق کی فُضُول بحث اوربک بک کی عادتِ بد کے سبب  ’’ مَدَنی مشورے‘‘  وغیرہ کا ماحول خَراب ہوجایا کرتا تھا۔  

مَدَنی کاموں کیلئے مَدَنی ہتھیار

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے؟   فُضُول باتوں سے بچنا مَدَنی کاموں کیلئے کس قدر مفیدہے۔   لہٰذا جو سنّتوں کا مبلِّغ ہے اُسے تو ہر حال میں سنجیدہ اورکم گو ہونا چاہیے۔   جو بَڑ بَڑیا،  باتُونی ،   دوسروں کی بات کاٹنے والا،   بار بار بیچ میں بول پڑنے والا ،   بات بات پر بحث و تکرار کرنے اور ’’ بال کی کھال‘‘  اُتارنے والا ہو اُس کی وَجہ سے دین کے کام کو نقصان پہنچنے کا سَخت اندیشہ رہتا ہے،   کیوں کہ خاموشی جو کہ شیطان کو مار بھگانے کا    ’’  مَدَنی ہتھیار‘‘  ہے اِس سے یہ بد نصیب محروم ہے۔  حضرتِ سیِّدُنا ابو ذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وصیَّت کرتے ہوئے تاجدارِ رِسالت،   مصطَفٰے جانِرَحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:  ’’خاموشی کی کثرت کو لازِم کر لو کہ اس سے شیطان دَفْع ہو گا اور تمہیں دین کے کاموں میں مدد ملے گی۔ ‘‘  (شُعَبُ الْاِیمان ج۴ ص۲۴۲حدیث۴۹۴۲)

اللہ اِس سے پہلے ایماں پہ موت دے دے

               نقصاں مِرے سبب سے ہوسنّتِ نبی  کا (وسائلِ بخشِش ص۱۰۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {3} گھر میں مَدَنی ماحول بنانے میں خاموشی کا کردار

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بے ضَرورت بات ،   ہنسی مذاق،   اورتُوتَڑاق کی عادات نکال دینے سے گھر میں بھی آپ کا وقاربُلند ہوگااور جب گھر کے افراد آپ کے سنجیدہ پن سیمُتأَثِّر (مُ۔ تَ۔ اَث۔ ثِر) ہوں گے توان پر آپ کی ‘’ نیکی کی دعوت’‘ بَہُت جلد اثر کرے گی اور گھر میں مَدَنی ماحول نہ ہوا تو بنانے میں آسانی ہوجائے گی ۔   چُنانچِہ’’  دعوتِ اسلامی‘‘  کے سنّتوں بھرے اجتِماع میں خاموشی کی اَھَمِّیَّت پر کیا ہوا ایک سنّتوں بھرا بیان سُن کر ایک اسلامی بھائی نے جو تحریر دی اُس کاخُلاصہ ہے:  سنّتوں بھرے بیان میں دی گئی ہدایت کے مطابِق اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  مجھ باتُونی آدَمی نے خاموشی کی عادت ڈالنی شروع کردی ہے،   سُبْحٰنَ اللہ! اس کا مجھے بے حدفائدہ پہنچ رہا ہے،   میرے ابوالفضول ہونے کی وجہ سے گھر کے افراد مجھ سے بدظن تھے مگر جب سے چُپ رَہنا شروع کیا ہے،   گھر میں میری  ’’پوزیشن‘‘ بن گئی ہے اورخُصُوصاً میری پیاری پیاری ماں جو کہ مجھ سے خوب بیزار رہا کرتی تھیں اب بے حد خوش ہوگئی ہیں ،  چُونکہ پہلے میں بَہُت ‘’  بکّی’‘  تھا لہٰذا میری اچّھی باتیں بھی بے اثر ہو جاتی تھیں مگر اب میں امّی جان کو جب کوئی سنَّت وغیرہ بتاتاہوں تو وہ نہ صِرْف دلچسپی سے سنتی ہیں بلکہ عمل کرنے کی بھی کوشِش کرتی ہیں ۔  

بڑھتا ہے خَموشی سے وقار اے مرے پیارے

اے بھائی!  زَباں پر تُو لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 ’’ یا ربِّ کریم !  ہمیں متّقی بنا ‘‘   کے اُنّیس حُرُوف  کی نسبت سے گھر میں   

Index