خاموش شہزادہ

بھی بنتی ہیں ،    دھماکوں اور دہشت گردیوں کی وارِداتیں سننے سنانے میں نفس کو بے انتِہا دلچسپی ہوتی ہے،    بسا اوقات لب پر دعا ئیہ الفاظ ہوتے ہیں مگر قلب کی گہرائیوں میں سنسنی خیز خبریں سننے سنانے کے ذَرِیعے حَظّ (یعنی مزے)  اُٹھانے اور لطف اندوز ہونے کا جذبہ چُھپا ہوتا ہے،   کاش !  نفس کی اس شرارت کو پہنچانتے ہوئے ہم دہشت گردیوں اور دھماکوں کے تذکروں میں دلچسپی لینے سے باز آ جائیں ۔    ہاں مظلومانہ شہادت پانے والوں ،    زخمیوں اور مُتأَثِّرہ مسلمانوں کی ہمدردیوں ،    خدمتوں اور امن و سلامتی کی دعاؤں سے گُریز نہ کیا جائے کہ یہ ثواب کے کام ہیں ۔  بس جب بھی اِس طرح کی گفتگو کرنے سننے کی صورت پیدا ہو تو اپنے دل پر غور کر لینا چاہئے کہ نیَّت کیا ہے ؟  اگر اچّھی نیّت پائیں تو عمدہ اور بَہُت عمدہ ہے مگر اکثر اس قسم کی گفتگو کا حاصِل  ’’سنسنی‘‘  سے لطف اندوزی ہی پا یا جاتا ہے۔  

صدِّیقِ اکبر منہ میں پتّھر رکھ لیتے

          یادرکھئے! زَبان بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عظیم نعمت ہے،   اِس کے بارے میں بھی قِیامت کے روزسُوال ہونا ہے،   لہٰذا اس کا ہرگزبے جا استعِمال نہ کیا جائے۔  سیِّدُنا صِدّیقِ اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  قَطْعی جنَّتی ہونے کے باوُجُود زَبان کی آفتوں سے بے حد مُحتاط رہا کرتے تھے چُنانچِہ’’  اِحیاءُ الْعُلُوم‘‘ میں ہے:  حضرتِ سیِّدُنا ابو بکرصِدّیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے مبارَک منہ میں پتّھر رکھ لیا کرتے تھے تاکہ بات کرنے کا موقع ہی نہ رہے۔   (اِحیاءُ الْعُلومج۳ ص۱۳۷)  

رکھ لیتے تھے پتَّھر سُن ابوبکر دَہَن میں

اے بھائی!  زَباں پر تُو لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

40برس تک خاموشی کی مَشق   

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرآپ واقِعی خاموشی کی عادت بنانا چاہتے ہیں تو اِس پر سنجیدَگی سے غور کرنا ہو گا،   اور خوب مشق کرنی پڑیگی ورنہ سرسری کوشش سے زَبان پر قفلِ مدینہ لگنا دشوار ہے۔  زَبان کے بے جا استعمال کی تباہ کاریوں سے خود کو ڈراتے ہوئے خاموشی کی عادت بنانے کی بھر پور سعی فرمایئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّکامیابی آپ کے قدم چومے گی۔  مگر کوشِش استِقامت کے ساتھ ہونی چاہئے۔  آئیے !  ایک کوشش کرنے والے کی استقامت کی حکایت سنتے ہیں ،  حضرت سیِّدُنا اَرطاہ بن مُنذِر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ایک شخص چالیس سال تک خاموش رہنے کی اس طرح  ’’مَشق‘‘  کرتا رہا کہ اپنے منہ میں پتّھر رکھتا،  یہاں تک کہ کھانے یا پینے یا سونے کے علاوہ وہ پتّھر منہ سے نہ نکالتا۔  (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیاج۷ص۲۵۶رقم۴۳۸)   یاد رہے!  پتّھر اتنا چھوٹا نہ ہو کہ حَلْق سے نیچے اُتر کر کسی بڑی مشکل میں ڈالدے نیز روزے کی حالت میں منہ میں پتّھر نہ رکھا جائے کہ اِس کی مِٹّی وغیرہ حَلْق میں جا سکتی ہے۔

گفتگو لکھ کر مُحاسَبہ کرنے والے تابِعی بُزُرگ

          حضرت ِ سیِّدنارَبِیع بنخُثَیْم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ الکَرِیم یبیس سال تک دُنیاوی بات زَبان سے نہیں کی،   جب صُبْح ہوتی تو قلم دَوات اور کاغذ لے لیتے اور دن بھر جو بولتے اُسے لکھ لیتے اور شام کو  (اُس لکھے ہوئے کے مطابق) اپنا مُحاسَبہ فرماتے۔  (اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۱۳۷)  

بات چیت کے مُحاسبے کا طریقہ

          اپنا ’’ محاسَبہ‘‘   کرنے سے مُراد یہاں یہ ہے کہ اپنی ہر ہر بات پر غور کر کے اپنے آپ سے بازپُرس کرنا مَثَلاً فُلاں بات کیوں کی؟  اُس مقام پر بولنے کی کیا حاجت تھی؟  فُلاں گفتگو  (گُفت۔ گُو)  اتنے الفاظ میں بھی نمٹائی جا سکتی تھی مگر اس میں فُلاں فُلاں لفط زائد کیوں بولے؟   فُلاں سے جو جملہ تم نے کہا وہ شَرعی اجازت سے نہ تھا بلکہ دل آزار طنز تھا،    اُس کا دل دُکھا ہو گا اب چلو توبہ بھی کرو اور اُس اسلامی بھائی سے مُعافی بھی مانگو،   اُس بیٹھک میں کیوں گئے جب کہ معلوم ہے کہ وہاں فُضُول باتیں بھی ہوتی ہیں اور فُلاں فُلاں بات میں تم نے ہاں میں ہاں کیوں ملائی تھی؟  وہاں تمہیں غیبت بھی سننی پڑ گئی تھی بلکہ تم نے غیبت سننے میں دلچسپی بھی لی تھی چلو پکّی توبہ اور ایسی بیٹھکوں سے دُور رہنے کا بھی عہد کرو۔   اِس طرح سمجھدار

Index