60سال کی عبادت سے بہتر کی وضاحت
مُفَسِّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان چوتھی حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : یعنی اگر کوئی شخص ساٹھ سال عبادت کرے مگر زیادہ باتیں بھی کرے، اچّھی بُری بات میں تمیز نہ کرے اِس سے یہ بہتر ہے کہ تھوڑی دیر خاموش رہے کیونکہ خاموشی میں فکر بھی ہوئی، اِ صلاحِ نَفْس بھی ، مَعارِف و حقائق میں اِستِغراق بھی ، ذِکر خفی کے سَمُندر میں غوطہ لگانا بھی، مراقبہ بھی۔ (مراٰۃالمناجیح ج۶ص۳۶۱ مختصرا)
فالتو باتوں کے چار لرزہ خیز نقصانات
‘’ گپ شپ’‘ کرنے والے ، بات کا بتنگڑ بنانے والے ، بلکہ فضول بات چُونکہ جائز ہے گناہ نہیں یہ سوچ کر یا وَیسے ہی جو کبھی کبھار ہی فُضُول باتیں کرتے ہیں وہ بھی فُضُول باتوں کے مُتَعلِّق حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِیکے تأَثُّرات (تَ۔ اَث۔ ثُرات) مُلاحَظہ فرمائیں اور اپنے آپ کوفُضُول گفتگو کے اِن چار نقصانات سے ڈرائیں ۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ان چار وُجُوہات کی بِنا پرفُضُول باتوں کی مَذَمَّت فرمائی ہے: {1} فُضُول باتیں کِراماًکاتِبِین (یعنی اعمال لکھنے والے بُزُرگ فِرِشتوں ) کو لکھنی پڑتی ہیں ، لہٰذا آدمی کو چاہیے کہ ان سے شَرْم کرے اورانہیں فُضُول باتیں لکھنے کی زَحْمت نہ دے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پارہ 26 سُوْرَۃ قٓ، آیت نمبر18میں ارشاد فرماتاہے:
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ (۱۸)
ترجَمۂ کنزالایمان: کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
{2} یہ بات اچھّی نہیں کہ فضول باتوں سے بھرپور اعمال نامہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش ہو {3} اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دربار میں تمام مخلو ق کے سامنے بندے کو حکم ہو گا کہ اپنا اعمال نامہ پڑھ کر سناؤ! اب قِیامت کی خوفناک سختیاں اس کے سامنے ہوں گی ، انسان بَرہنہ (بَ۔ رَہْ۔ نہ یعنی ننگا) ہوگا، سخت پیاسا ہوگا، بھوک سے کمر ٹوٹ رہی ہو گی، جنَّت میں جانے سے روک دیا گیا ہوگااورہر قسم کی راحت اُس پر بند کردی گئی ہوگی، غور تو کیجئے ایسے تکلیف دِہ حالات میں فُضُول باتوں سے بھرپور اعمال نامہ پڑھ کر سنانا کس قَدَر پریشان کُن ہوگا! (حساب لگائیے اگرروزانہ صرف 15 مِنَٹ بھی فُضُول باتیں کی ہیں تو ایک مہینے کے ساڑھے سات گھنٹے ہوئے اورایک سال کے90 گھنٹے ، بِالفرض کسی نے پچاس سال تک روزانہ اَوسَطاً 15 مِنَٹ فُضُول گفتگو کی تو 187دن 12گھنٹے ہوئے یعنی چھ ماہ سے زائد، توغورفرمائیے! قِیامت کا ہولناک دن جس میں سورج صِرف ایک میل پر رہ کر آگ برسا رہا ہوگا، ایسی ہو شرُبا گرمی میں مسلسل بِلا وقفہ چھ ماہ تک کون’’ اعمال نامہ ‘‘ پڑھ کر سنا سکے گا! یہ توصِرف یومیہ پندرہ مِنَٹ کی فُضُول گوئی کا حِساب ہے۔ ہمارے تو بسااوقات کئی کئی گھنٹے دوستوں کے ساتھ ‘’ فُضُول گپ شپ ‘‘ میں گزر جاتے ہیں ، گناہوں بھری باتیں اوردیگر بُرائیاں مزیدبَرآں) {4} بروزِقیامت بندے کوفُضول باتوں پر ملامت کی جائے گی اور اُس کوشرمندہ کیا جائے گا۔ بندے کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوگا اوروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سامنے شرم ونَدامت سے پانی پانی ہوجائے گا۔ (مِنہاجُ العابِدین ص۶۷)
ہر لفظ کا کس طرح حساب آہ! میں دوں گا
اللہ زَباں کا ہو عطا قُفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرتِ سیِّدُنا سُفیان بن عبدُاللّٰہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ایک بار میں نے بارگاہ ِرسالت میں عَرْض کی: یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! آپ میرے لئے سب سے زیادہ خطرناک اورنقصان دہ ِچیز کسے قرار دیتے ہیں ؟ تو سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنی زَبانِ مبارَک پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’ اِسے۔ ‘‘ (سُنَنِ تِرمِذی ج۴ ص۱۸۴ حدیث ۲۴۱۸)