خاموش شہزادہ

           کاش!  بخاری شریف کی یہ حدیثِ پاک ہمارے ذِہْن و دماغ میں راسِخ ہو جائے ،   جس میں یہ بھی ہے:  مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ ’’ جو اللہ  اور قِیامت پر ایمان رکھتا ہے اُسے چاہئے کہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے ۔   ‘‘   (بُخاری ج ۴ ص۱۰۵حدیث۶۰۱۸) دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 217 صَفْحات پر مشتمل کتاب ،   ’’   اللّٰہ والوں کی باتیں ‘‘  صَفْحَہ91 پر امیرُالْمُؤمِنِین،   حضرتِسیِّدُنا صدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :  ’’  اُس بات میں کوئی بھلائی نہیں جس سے مقصود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خوشنودی نہ ہو۔‘‘  (حِلْیَۃُ الْاولیاء  ج۱ص۷۱) حضرت سیِّدُنا امام سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: عبادت کا اوّل خاموشی ہوتی ہے ،  پھرعِلْم حاصل کرنا ،   اس کے بعد اسے یاد کرنا،  پھر اس پر عمل کرنااوراسے پھیلا نا ۔          (تاریخ بغداد ج۶ص۶)

اگر جنَّت درکار ہو تو۔ ۔ ۔

    حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمتِ باعَظَمت میں لوگوں نے عرض کیا: کوئی ایسا عمل بتائیے کہ جس سے جنت ملے۔  ارشاد فرمایا:  ’’ کبھی بولو مت ۔   ‘‘   عرض کی :  یہ تو نہیں ہوسکتا۔  فرمایا:  ’’ اچّھی بات کے سوا زَبان سے کچھ مت نکالو۔  ‘‘  (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۳۶)  

اکثر مِرے ہونٹوں پہ رہے ذکرِ مدینہ

       اللہ   زَباں  کا  ہو  عطا  قفلِ  مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خاموشی ایمان کی سلامَتی کا ذَرِیعہ ہے

          جس بدنصیب کی زَبان قینچی کی طرح ہرکسی کی بات کاٹتی چلی جاتی ہو گی ،   وہ دوسرے کی بات اچّھی طرح سمجھنے سے محروم رہے گابلکہ باتونی شخص کے لیے یہ بھی خطرہ رہتاہے کہ بک بک کرتے ہوئے زَبان سے مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّکُفْریات نکل جائیں ۔   چُنانچِہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی  ’’ اِحیاء ُالعلوم‘‘  میں بعض بُزُرگوں کا قول نَقْل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  خاموش رہنے والے شخص میں دو خوبیاں جمع ہوجاتی ہیں  {۱}  اُس کا دین سلامت رہتاہے اور  {۲}  دوسرے کی بات اچّھی طرح سمجھ لیتا ہے۔   (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۱۳۷)  

خاموشی جاہل کا پردہ ہے

          حضرتِ سیِّدُناسُفْیان بن عُیَیْنہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:  اَلصَّمْتُ زَیْنٌ لِّلْعَالِمِ وَسِتْرٌ لِّلْجَاہِلِخاموشی عالِم کا وقار اور جاہل کا پردہ ہے۔      (شُعَبُ الْاِیمان ج۷ ص ۸۶ حدیث۴۷۰۱)

خاموشی عبادت کی چابی ہے

          حضرتِ سیِّدُنا امام سفیانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان سے مروی ہے: زیادہ خاموشی عبادت کی چابی ہے ۔  (اَلصَّمت مع موسوعۃ ابن اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۲۵۵رقم۴۳۶)

مال کی حفاظت آسان ہے مگرزَبان۔ ۔ ۔ ۔

          حضرتِ سیِّدُنا محمدبن واسِع علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ النّافِع نیحضرتِ سیِّدُنا مالِک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارسے فرمایا: انسان کیلئے زَبان کی حفاظت مال کی حفاظت سے زیادہ دُشوار ہے ۔    (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدیج۹ص۱۴۴ )

          افسوس! کہ اپنے مال کی حفاظت کے مُعامَلے (مُ۔ عَا۔ مَلے)  میں عُمُوماً ہر ایک ہوشیار ہوتا ہے ،   حالانکہ مال ضائِع ہوبھی گیا تو صِرف دنیا کا نقصا ن ہے۔  صد کروڑ افسوس!  زَبان کی حفاظت کی سوچ نہایت کم رَہ گئی ہے،   یقینا زَبان کی حفاظت نہ کرنے کے سبب دنیا کے نقصان کے ساتھ ساتھ آخِرت کی بربادی کا بھی پوراپورا امکان ہے۔

بک بک کی یہ عادت نہ سرِ حشر پھنسا دے

اللہ   زَباں  کا  ہو  عطا  قُفلِ  مدینہ  (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

 

Index