خاموش شہزادہ

عَلَیْہ’’ کَشفُ المَحجُوب‘‘  میں فرماتے  ہیں : کلام (یعنی بولنا)  دو طرح کا ہوتا ہے۔  ایک کلامِ حق اور دوسرا کلامِ باطل،   اِسی طرح خاموشی بھی دو طرح کی ہوتی ہے:   (۱) بامقصد (مَثَلاً فکرِ آخِرت یا شَرْعی اَحکام پر غور وخَوض وغیرہ کیلئے)  خاموشی (یعنی چُپ رہنا)   (۲) غفلت بھری (یا مَعاذَاللّٰہ گندے تصوّرات یا دنیا کے بے جاخیالات سے بھر پور) خاموشی۔  ہر شخص کوسُکوت  (یعنی خاموشی) کی حالت میں خوب اچّھی طرح غور کر لیناچاہئے کہ اگر اِس کا بولنا حق ہے تو بولنا اُس کی خاموشی سے بہتر ہے اور اگر اُس کا بولنا باطِل ہے تو اُس کی خاموشی اس کے بولنے سے بہتر ہے۔  حُضور داتا گنج بخشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ گفتگو کے حق یا باطِل ہونے کے متعلِّق سمجھانے کیلئے ایک حکایت نَقْل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ حضرت ِسیِّدُنا ابو بکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی  بغدادشریف کے ایک مَحَلّے سے گزر تے ہوئے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا :   اَلسُّکُوْتُ خَیْرٌ مِّنَ الْکَلَامِ  یعنی خاموشی بولنے سے بہتر ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اسے فرمایا :  ’’ تیر ے بولنے سے تیرا خاموش رہنا اچّھا ہے اور میرا بولنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔ ‘‘   (ماخوذ اَز کشف المحجوب ص۴۰۲)  

فُحش بات کی تعریف

          کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اوراسلامی بہنیں ! جو صِرف اچّھی گفتگوکیلئے ہی زَبان کو حَرَکت میں لاتے اورخوب خوب ‘’ نیکی کی دعوت’‘ لوگوں تک پہنچاتے ہیں ۔   افسوس!  آج کل لوگوں کی بَہُت ہی کم بیٹھکیں ایسی ہوتی ہوں گی جو فُحش باتوں سے پاک ہوں حتّٰی کہ مذہبی وَضْع قَطْع کے افراد بھی اس سے بچ نہیں پاتے ۔ شاید انہیں یِہی نہیں پتا ہوتا کہ فحش بات کسے کہتے ہیں !  تو سنئے:  فحش بات کی تعریف یہ ہے: اَلتَّعْبِیْرُ عَنِ الْاُ مُورِ الْمُسْتَقْبَحَۃِ بِالْعِبَارَاتِ الصَّرِیحَۃِ یعنی شرمناک اُمور  (مَثَلاً گندے اور بُرے معاملات)  کا کھلے الفاظ میں تذکرہ کرنا۔   (اِحیاءُ العلوم ج ۳ ص۱۵۱)   تو وہ نوجوان جو شہوت کی تسکین کی خاطر خواہ مخواہ شادیوں کی خلوتوں اور پردے میں رکھنے کی باتوں کے قصّے چھیڑتے ہیں ،   نیز فُحش یعنی بے حیائی کی باتیں کرنے والے بلکہ صرف سن کر دل بہلانے والے،   گندی گالیاں زَبان پر لانے والے،   بے شرمانہ اِشارے کرنے والے،  ان گندے اشاروں سے لطف اندوز ہونے والے اور  ’’ گندی لذّتوں ‘‘  کے حصول کی خاطر فلمیں ڈِرامے  (کہ ان میں عُمُوماًبے حیائی کی بھر مار ہوتی ہے)  دیکھنے والے ایک دل ہِلا

دینے والی روایت بار بار پڑھیں اور خوفِ خداوندی سے لرزیں چُنانچِہ

منہ سے خون اور پیپ بہ رہا ہو گا

          منقول ہے:  چار طرح کے جہنَّمی کہ جوکھولتے پانی اور آگ کے مابَین (یعنی درمِیان)  بھاگتے پھرتے وَیل وثُبُور  (یعنی ہلاکت)  مانگتے ہونگے،   ان میں سے ایک وہ شخص کہ اس کے مُنہ سے خون،   پِیپ بہ رہا ہو گا،   جہنَّمی کہیں گے:  ’’ اِس بد بخت کو کیا ہوا کہ ہماری تکلیف میں اِضافہ کئے دیتا ہے؟  ‘‘   کہا جائے گا:  ’’ یہ بدبخت بُری اور خبیث (یعنی گندی) بات کی طرفمُتَوَجِّہ ہو کر اُس سے لذّت اُٹھاتا تھا جیسا کہ جِماع کی باتوں سے۔ ‘‘  ( اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی  ج۹ ص۱۸۷) غیر عورَتوں یا اَمْرَدوں کے بارے میں آ نے والے گندے وَسوسوں پر توجُّہ جمانے،   جان بوجھ کر بُرے خیالات میں خود کو گُمانے اور معاذَاللّٰہ ،   ’’ گندی حَرَکت ‘‘  کے تصوُّر کے ذَرِیعے لذّت اُٹھانے والوں کو بیان کردہ روایت سے عبرت حاصِل کرنی چاہئے۔  

نہ وَسوَسے آئیں نہ مجھے گندے خیالات

            دے ذِہن کا اور دل کا خدا!  قُفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کُتّے کی شَکل والا

          حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن مَیْسَرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’ فُحش کلامی  (یعنی بے حَیائی کی باتیں )  کرنے والا قِیامت کے دن کُتّے کی شَکل میں آئے گا۔  ‘‘  (اِتحافُ السّادَۃ للزّبیدی  ج۹ ص۱۹۰)

جنّت حرام ہے

 

Index