خاموش شہزادہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط  فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠ (۲۲)  ([1])   (اوّل،  آخِر،  ایک مرتبہ دُرُود شریف) یاد رہے!  بڑا نافرمان ہو تو سوتے سوتے سرہانے وظیفہ پڑھنے میں اس کے جاگنے کا اندیشہ ہے خصوصاً جب کہ اس کی نیند گہری نہ ہو ،  یہ پتا چلنا مشکل ہے کہ صرف آنکھیں بندہیں یا سور ہا ہے لہٰذا جہاں فتنے کا خوف ہو وہاں یہ عمل نہ کیا جائے خاص کر بیوی اپنے شوہر پر یہ عمل نہ کرے ۔   

 {17}  نیز نافرمان اولاد کو فرماں بردار بنانے کے لیے تاحُصُولِ مُرادنَمازِ فَجر کے بعد آسمان کی طرف رُخ کر کے  ’’ یَاشَھِیْدُ‘‘  21بار پڑھئے۔   (اوّل وآخِر،   ایک بار دُرُود شریف)

 {18} مَدَنی اِنعامات کے مطابِق عمل کی عادت بنایئے اورگھر کے جن افراد کے اندرنَرم گوشہ پائیں اُن میں اور آپ اگر باپ ہیں تو اَولاد میں نرمی اور حکمتِ عملی کے ساتھ مَدَنی اِنعامات کا نِفاذ کیجئے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمت سے گھر میں مَدَنی انقِلاب برپا ہو جا ئے گا۔  

 {19} پابندی سے ہر ماہ کم از کم تین دن کے مَدَنی قافِلے میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر کر کے گھر والوں کیلئے بھی دعا کیجئے ۔   مَدَنی قافِلے میں سفر کی بَرَکت سے بھی گھروں میں مَدَنی ماحول بننے کی ‘’ مَدَنی بہاریں ‘‘  سننے کو ملتی ہیں ۔  

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنت کی فضیلت اور چند سنتیں  اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔   تاجدارِ رسالت،   شَہَنشاہِ  نُبُوَّت،   مصطَفٰے جانِ رَحمت،  شَمعِ بزمِ ہدایت ،  نَوشَۂ بز م جنت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنت نشان ہے:  جس نے میری سنت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر  جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ  جنت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔         (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳)

سینہ تری سنّت کا مدینہ بنے آقا

جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 ’’ مسواک کرنا سنّت مبارکہ ہے ‘‘   کے بیس حُرُوف کی نسبت سے مِسواک کے 20 مَدَنی پھول

           پہلیدو فَرامینِمصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَملاحظہ ہوں :  ٭دو رَکعت مِسواک کر کے پڑھنا غیرمِسواک کی 70 رَکعتوں سے اَفضل ہے (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب  ج۱ ص۱۰۲ حدیث۱۸) ٭مِسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازِم کر لو کیونکہ اِس میں منہ کی صفائی اور رب تعالیٰ کی رِضا کا سبب ہے  (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج۲ ص۴۳۸حدیث ۵۸۶۹) ٭ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ  بہارِ شریعت  جلد اوّل صَفْحَہ 288پرصدرُ الشَّریعہ ،  بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں ،  مَشایخ کِرا م فرماتے ہیں :  جو شخص مِسواک کا عادی ہو مرتے وَقت اُسیکلِمہ پڑھنا نصیب ہوگا  اور جو اَفیون کھاتا ہو مرتے وَقت اسے کلِمہ نصیب نہ ہوگا٭حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ مِسواک میں دس خوبیاں ہیں : منہ صاف کرتی ،   مَسُوڑھے کو مضبوط بناتی ہے،   بینائی بڑھاتی ،   بلغم دُور کرتی ہے ،   منہ کی بدبو ختم کرتی ،   سنّت کے مُوافِق ہے ،  فرشتے خوش ہوتے ہیں ،   رب راضی ہوتا ہے،   نیکی بڑھاتی اور معدہ دُرُست کرتی ہے  (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۵ ص۲۴۹حدیث ۱۴۸۶۷) ٭ حضرتِ سیِّدُنا عبدا لوہّاب شَعرانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی نقل کرتے ہیں :  ایک بار حضرت ِسیِّدنا ابو بکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی کو وضو کے وَقت مِسواک کی ضَرورت ہوئی،   تلاش کی مگر نہ ملی،  لہٰذا ایک دینار  (یعنی ایک سونے کی اشرفی)  میں مِسواک خرید کر استعمال فرمائی۔  بعض لوگوں نے  کہا :  یہ تو آپ نے بَہُت زیادہ خرچ کر ڈالا!  کہیں اتنی مہنگی بھی مِسواک لی جاتی ہے؟  فرمایا : بیشک یہ دنیا اور اس کی تمام چیزیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مچھّر کے پر برابر بھی حیثیَّت نہیں رکھتیں ،  اگر بروزِ قِیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ سے یہ پوچھ لیا تو کیا جواب  دوں



[1]     ترجَمۂ کنز الایمان : بلکہ وہ کمال شَرَف والاقراٰن ہے لَوحِ مَحفوظ میں۔(پ ۳۰،البروج: ۲۱،۲۲ )

Index