صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خاموش رہنے میں نَدامت کا امکان بَہُت کم ہے جب کہ موقع بے موقع’’ بول پڑنے’‘ کی عادت سے بارہا SORRY کہنا پڑتااورمُعافی مانگنی پڑتی ہے یا پھر دل ہی دل میں پچھتاواہوتا ہے کہ میں یہاں نہ بولا ہوتا تو اچّھا تھا کیوں کہ میرے بولنے پرسامنے والے کی جِھجک اُڑ گئی، کھری کھری سُننی پڑی، فُلاں ناراض ہوگیا، فُلاں کاچِہرہ اُترگیا ، فُلاں کا دل دُکھ گیا ۔ اپنا وقار بھی مَجروح ہوا وغیرہ وغیرہ۔ حضرت سیِّدُنا محمد بن نَضْر حارِثی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی سے مروی ہے: زیادہ بولنے سے وَقار (دبدبہ) جاتارہتا ہے۔ (اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا ج۷ص۶۰رقم۵۲)
’’ بول کر‘‘ پچھتانے سے ’’ نہ بول کر‘‘ پچھتانا اچّھا
سچ ہے ، ’’ بول کر‘‘ پچھتانے سے’’ نہ بو ل کر‘‘ پچھتانا اچّھا اور ’’ زیادہ کھا کر‘‘ پچھتانے سے’’ کم کھا کر ‘‘ پچھتانا اچّھا کہ جو بولتا رہتا ہے وہ مصیبتوں میں پھنستا رہتا ہے اور جوزیادہ کھانے کا عادی ہوتا ہے وہ اپنامِعْدہ تباہ کر بیٹھتا ، اکثرمَوٹاپے کا شکار ہو جاتا اور طرح طرح کی بیماریوں کی زَد میں رہتا ہے، اگر جوانی میں اَمراض سے قدرے بچت ہو بھی گئی تو جوانی ڈھلنے کے بعد بسا اوقات’’ سراپا مَرَض ‘‘ بن جاتا ہے ۔ زیادہ کھانے کے نقصانات اور موٹاپے کے علاج وغیرہ جاننے کیلئے فیضانِ سنَّت جلد اوّل کے باب ’’پیٹ کا قفلِ مدینہ‘‘ کا مُطالَعَہ فرمایئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا جائے تو نابِینافائدے میں رہتا ہے کہ غیر عورَتوں کو گھورنے، اَمردوں پر لذّت بھری نگاہیں ڈالنے ، فلمیں ڈِرامے دیکھنے، کسی ’’ ہاف پینٹ‘‘ والے کے کُھلے گُھٹنے اور رانیں دیکھنے وغیرہ وغیرہ بدنِگاہیوں کے گناہوں سے بچا رَہتاہے۔ اِسی طرح گُونگا بھی زَبان کی بے شمار آفتوں سے محفوظ رَہتاہے ۔ امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُناابوبکر صِدِّیق فرماتے ہیں : کاش میں گونگا ہوتا مگر ذِکراللّٰہ کی حد تک گویائی (یعنی بولنے کی صلاحیّت) حاصل ہوتی۔ (مِرْقاۃُ الْمَفاتِیح ج۱۰ ص۸۷ تحتَ الحدیث ۵۸۲۶ ) ’’اِحیاءُ العُلُوم ‘‘ میں ہے: حضرتِ سیِّدُنا ابودَردا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک زَبان دراز عورت دیکھی تو فرمایا: اگر یہ گونگی ہوتی تو اس کے حق میں بہتر تھا۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص ۱۴۲)
پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے میٹھے میٹھے صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ارشاد سے خُصُوصاًہماری وہ اسلامی بہنیں درس حاصل کریں جو ہروَقت ’’لگائی بجھائی‘‘ اور ’’تیری میری‘‘ میں مگن رہتیں اوراِدھر کی اُدھر اوراُدھر کی اِدھر لگانے سے فرصت نہیں پاتیں ۔ اگر اسلامی بہنیں صحیح معنوں میں اپنی زَبان پر ’’ قفلِ مدینہ‘‘ لگالیں تو ان کی گھر یلو پریشانیاں ، رشتے داروں سے ناچاقیاں اورساس بہو کی لڑائیاں وغیرہ بَہُت سارے مسائل حل ہوجائیں اورسارے کاساراخاندان اَمْن کا گہوارہ بن جائے کیونکہ زیادہ ترگھریلو جھگڑے زَبان کے بے جاا ستِعمال ہی کے سبب ہوتے ہیں ۔
ساس بہو کا جھگڑا نمٹانے کا مَدَنی نُسخہ
ساس اگر ڈانٹ ڈَپَٹ کرتی ہو تو ’’ بہو ‘‘ کو چاہیے کہ صِرف اورصِرف صَبْر کرے ، اپنی ساس کو جواباًایک لفظ بھی نہ کہے اوراپنے شوہر کو بھی شکایت نہ کرے، اپنے میکے میں بھی کچھ نہ بتائے بلکہ منہ بھی نہ چَڑھائے، نیزاپنے بچّوں یا برتنوں وغیرہ پربھی غصّہ نہ نکالے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ کامیابی اس کے قدم چوم لے گی۔ کہاجاتاہے: ’’ ایک چُپ سوکوہَرائے۔ ‘‘ اِسی طرح اگرکوئی بہواپنی’’ ساس‘‘ سے جھگڑا کرتی ہوتوساس کوچاہیئے