صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہر ہفتے کبھی پَیدل تو کبھی سُواری پر مسجِد قُباتشریف لے جاتے تھے۔ ( بُخاری ج ۱ص۴۰۲حدیث۱۱۹۳)
عُمرے کا ثواب: دوفرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: {۱} مسجِد قُبا میں نَما ز پڑھنا عمرے کے برابر ہے (تِرمذی ج ۱ص۳۴۸حدیث۳۲۴) {۲} جس شخص نے اپنے گھر میں وُضو کیا پھر مسجِد قُبا میں جا کر نَماز پڑھی تو اُسے عمرے کا ثواب ملے گا ۔ (ابنِ ماجہ ج۲ ص۱۷۵حدیث۱۴۱۲)
مزارِ سیِّدُنا حمزہ : آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ غزوۂ اُحُد ( ۳ ھ ) میں شہید ہوئے تھے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مزار فائضُ الانوار اُحُد شریف کے قریب واقِع ہے۔ ساتھ ہی حضرتِ سیِّدُنا مُصْعَب بن عُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرتِ سیِّدُنا عَبْدُ اللّٰہ بن جَحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مزارات بھی ہیں ۔ نیز غزوہ ٔ اُحُد میں 70صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے جامِ شہادت نوش کیا تھا اُن میں سے بیشتر شُہَدائے اُحُد بھی ساتھ ہی بنی ہوئی چار دیواری میں ہیں ۔
شُہَدائے اُحُدعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو سلام کرنے کی فضیلت: سیِّدُنا شیخ عبدُالحقّ مُحدِّث دِہلَوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِینَقْل کرتے ہیں : جو شخص ان شُہَدائے اُحُدسے گزرے اور ان کو سلام کرے یہ قِیامت تک اُس پر سلام بھیجتے رہتے ہیں ۔ شُہَدائے اُحُد عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور بالخُصوص مزارِ سیِّدُالشُّہَداء سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بارہا جوابِ سلام کی آوازسنی گئی ہے۔ (جذب القلوب البقرۃص۱۷۷)
سیِّدُنا حمزہ کی خدمت میں سلام
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا سَیِّدَنَا حَمْزَۃُ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا عَمَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا عَمَّ نَبِیِّ اللّٰہِ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا عَمَّ ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے سیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سلام ہو آپ پر اے محترم چچا رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ، سلام ہو آپ پر اے عَمِّ بُزُرگوار اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ، سلام ہو آپ پر اے چچا حَبِیْبِ اللّٰہِ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا عَمَّ الْمُصْطَفٰی ط اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا سَیِّدَ الشُّہَدَآءِ وَ یَا اَسَدَ اللّٰہِ وَ اَسَدَ رَسُوْلِہٖ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا سَیِّدَنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ جَحْشٍ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا مُصْعَبَ بْنَ عُمَیْرٍ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا شُھَدَآءَ اُحُدٍ کَآ فَّۃً عَامَّۃً وَّ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗط
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ، سلام ہو آپ پر اےچچا مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ، سلام ہو آپ پر اے سردار شہیدوں کےاور اے شیر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اور شیر اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے۔سلام ہو آپ پر اے سیِّدُناعبد اللّٰہبن جَحش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سلام ہو آپ پر اے مُصعَب بن عُمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔سلام ہو اے شُہَدائے اُحُد آپ سبھی پر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمتیں اور بر کتیں ۔
شہدائے اُحُد عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو مجموعی سلام
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا شُھَدَآءُ یَا سُعَدَآ ءُ یَا نُجَبَآءُ یَا نُقَبَآءُ یَاۤ اَھْلَ الصِّدْقِ وَالْوَفَآءِ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا مُجَاھِدِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ط (سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ (۲۴) ) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا شُھَدَآءَ اُحُدٍ کَآ فَّۃً عَآمَّۃً وَّ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ ط ترجمہ: سلام ہو آپ پر اے شہیدو !اے نیک بختو!اے شریفو!اے سردارو!اے مُجسَّمِ صدِق ووفا!سلام ہو آپ پر اے مجاہِدو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جِہاد کا حق ادا کرنے والو! {ترجَمۂ کنزالایمان : سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا} سلام ہو اے شُہَدائے اُحُد آپ سبھی پر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحمتیں اور بر کتیں نازِل ہوں ۔
زِیارتوں پر حاضِری کے دو طریقے: میٹھے میٹھے مَکّے مدینے کے زائرو ! زیارتوں اوران کے پَتوں کو بخوفِ طوالت ’’ رفیق الحرمین ‘‘ درج نہیں کیا ، شائقین عاشقانِ رسول ، زیارات اور ایمان افروز حکایات کی معلومات کیلئے تبلیغ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ، ’’ عاشِقانِ رسول کی حِکایتیں مَع مکے مدینے کی زیا رتیں ‘‘ کامُطالعہ فرمائیں اور اپنے ایمان کو گرمائیں ۔البتّہ کتاب پڑھ کر ہر شخص زیارات کے مَقامات پرپَہنچ جائے یہ دشوار ہے۔ زِیارت کی دو صورتیں ہیں : ایک تو یہ کہ مسجِدُالنَّبَوِیِّ الشَّریف عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے باہَر صُبح گاڑیوں والے: زِیَارَہ!زِیَارَہ! کی صدائیں لگاتے رہتے ہیں ، آپ اُن کی گاڑیوں میں سُوار ہو جایئے ۔ یہ آپ کو مساجِد خَمسہ ، مسجدِقُبا اور مزارِ سیِّدُنا حَمزہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُلے جائیں گے۔ دوسری یہ کہمکّے مدینے کی مزید زِیارتوں کے لئے آپ کو ایسے آدَمی تلاش کرنے ہوں گے جو اُجرت لے کر زِیارَتیں کرواتے ہوں۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سُوال وجواب کے مطالَعے سے قَبْل چند ضَروری اِصطِلاحات وغیرہ ذِہن نشین کرلیجئے۔
{۱} دَم یعنی ایک بکرا۔ (اِس میں نَر ، مادہ ، دُنبہ ، بَھیڑ ، نیز گائے یا اُونٹ کا ساتواں حصَّہ سب شامل ہیں )
{۲} بَدَنہ یعنی اُونٹ یا گائے ۔ (اِس میں بیل ، بھینس وغیرہ شامل ہیں )
گائے بکرا وغیرہ یہ تمام جانور اُن ہی شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہیں ۔
{۳} صَدَقہ یعنی صَدَقہ ٔفِطر کی مِقدار۔آ ج کل کے حساب سے صَدَقۂ فِطر کی مِقدار 2کلومیں سے80گرام کم گندُم یا اُس کا آٹا یا اُس کی رقم یا اُس کے دُگنے جَو یاکَھجور یا اُس کی رقم ہے۔
دَم وغیرہ میں رِعایت: اگر بیماری ، سَخْت سردی ، سخت گرمی ، پھوڑے اور زَخْم یا جُوؤں کی شدید تکلیف کی وجہ سے کوئی جُرْم ہوا تو اُسے ’’ جُرمِ غیرِاِختِیاری ‘‘ کہتے ہیں ۔ اگر کوئی ’’ جُرمِ